22 جون 2013 - 19:30
فلسفہ انتظار اور عصرِ غیبت

امامت امت کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے، امامت پیروکار کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے ،فقط پیروکار کے لئے لفظ شیعہ استعمال ہوا ہے اور پیشوا کے لئے لفظِ امام استعمال ہوا ہے دونوں کی روح میں عمل موجود ہے، امام یعنی آگے چلنے والا شیعہ یعنی پیچھے چلنے والا، ہر دو چلنے والے ہیں امام بھی چل رہا ہے اور شیعہ بھی چل رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ آگے چل رہا ہے اور یہ پیچھے چل رہا ہے کسی رکے ہوئے کو امام نہیں کہتے ہیں اورکسی رکے ہوئے کو شیعہ نہیں کہتے ہیں ۔

اس وقت تک غیبت امام کو تقریباً بارہ سو سال گزر چکے ہیں۔ اس مدت میں مسلمانوں کی کئی نسلیں گزری ہیں جب کہ ائمہ کے حضور کا زمانہ ڈھائی سوسال بنتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈھائی سو سال میں رہنے والے لوگ عدد میں بھی بہت کم تھے، اس وقت ویسے بھی آبادی بہت کم تھی اور مسلمانوں کی آبادی بہت ہی کم تھی تواتنی کم آبادی کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے کتنے ہادی عطا کئے؟ جیسے وجودِ نورانی حضور اکرم ۖ ، وجودِ نورانی ٔ حضرت علی (ع)  وجودِ نورانی ٔ حضرت امام حسن (ع) حضرت سیدہ تا آخر ، تمام ائمہ ہدیٰ کے نور سے ان لوگوں کو منور کیا اور ان کے اندر متواتر ایک حجت کے بعد دوسری حجت بغیر کسی وقفے کے ﷲ تعالیٰ نے فراہم کی اور ان لوگوں نے انہیں مانا بھی نہیں ۔ اکثر ائمہ ہدیٰ کی زندگی گوشہ نشینی اورتقیہ کی حالت میں بسر ہوئی ہے۔ کسی حجت خدا کو نہ حکومت قائم کرنے کا حق دیا گیا ہے نہ ان کے پیروکاراس تعداد میں بنے ہیں ۔ ائمہ کی زندگی یا قید خانوں جیلوں میں گزر گئی ہے یا پابندیوں میں گزر گئی ہے، یا میدانِ جنگ میں گزر گئی ہے اور سب کے سب شہید بھی ہوگئے۔اور آج جب کہ پیروکار بھی زیادہ ہیں، ماننے والے بھی زیاد ہ ہیں اور نسل بعد از نسل تڑپ بھی زیادہ ہے، خواہش بھی زیادہ ہے، آج ان کی اتنی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو حجت موجود نہیں ہے بارہ سو سال سے محروم ہیں کتنے لوگ محروم آئے اور چلے بھی گئے ہیں ۔دوسری طرف سے خود ائمہ معصومین(ع) کی طرف سے تاکید ہے کہ جو بھی ظہور کا وقت معین کرے گا کہ فلاں دن فلاں وقت پہ ظہور ہوگا وہ کذَّاب ہے بلکہ بعض روایات میں اسے ملعون کہا گیا ہے، خود حضر ت حجت (ع) نے اسے کذَّاب کہا ہے کیونکہ یہ سرّ الٰہی اور راز خدا ہے ۔ خدا اپنے راز سے خود بہتر آشنا ہے کہ کب ظہور ہوگا ؟ کیسے ظہور ہوگا؟ کب مصلحت خدا کا تقاضا ہے کہ ظہو ر ہو؟ یہ رازِ خدا ہے اس کو رازِ خدا ہی رہنے دو، اس کے بارے میں کوئی حدس و گمان سے کام نہ لے ۔ خود معصوم نے فرمایا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے اور فرمایاکہ آپ ظہور کا وقت معین نہ کریں لیکن ظہور کے لئے دعا ضرور کریں ، و ظہور کی خواہش ضرور کریں لیکن مصلحت خدا ہمیں معلوم نہیں ہے کتنے ہزار سال یا کتنے سو سال اور گزریں گے اور اس صورت میں کتنی نسلیں آئیں گی اور آکر گزر جائیں گی اور امام غیب تک ان کی دسترس نہیں ہوگی اور جو لوگ ظہور کے زمانے میں ہوں گے وہ عہدِ حضرت حجت ـ کو درک کر یں گے ، ان کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے ۔ جو لوگ ائمہ کی زندگی میں موجودتھے ان کے لئے بھی کوئی مشکل نہیں تھی لیکن یہ جو کئی نسلیں گزر رہی ہیں جن میں سے ایک نسل ہم ہیں، محروم ہیں ۔ ہمارا کیا گناہ ہے؟ ہم وجودِ حجت سے کیوں محروم ہیں؟ ایک بڑی تعداد ماننے والوں کی محروم ہے یا جونسلیں آئی ہیں اور مر گئی ہیں ان کو اس ظہور کا کیا فائدہ ملے گا ؟ ظہور کا فائدہ تو ان کو ہوگا جو امام کے زمانے میں زندہ ہوں گے ہم تو زندہ نہیں ہوںگے یا آج اگر ظہورہوجائے تو گزشتہ ہمارے آباء و اجداد اور ہمارے اسلاف تو ظہور کی نعمت سے محروم رہ گئے، جب کہ خدا کی ذات عادل ہے خدا نے کہا ہے کہ میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے، نا انصافی نہیں کرتا ہے، تو کیا یہ عدلِ الٰہی کے ساتھ سازگار ہے؟ پس حقیقت کیا ہے؟ائمہ معصومین(ع) نے انتظار کا ایسا فلسفہ بیان کیا ہے اور ایسی فضیلت بیان کی کہ جو لوگ عصرِ ائمہ میں موجود تھے ان کی خواہش بھی یہ تھی کہ اے کاش ہم بھی عصر غیبت میں ہوتے اور عصر منتظرین میں سے ہوتے، یہ آرزو لے کر وہ ائمہ ہدیٰ کی خدمت میں آتے تھے وہاں پر امام (ع) نے انتظار کا یہ فلسفہ بیان کیا۔فلسفہ انتظار کلام معصومین(ع) میں اصول کافی ، جلد اول ، صفحہ ٣٧١ ، کتاب حجت، باب ( انّہ من عرف امامہ لم یضرّہ تقدم ھذا الامر او تأخّر) ہے ۔احادیث کا شانِ نزولِ یہ ہے کہ ائمہ ہدیٰ (ع) نے انتظار کی اتنی فضیلت بیان کی اور حضرت حجت ـ کے اتنے فضائل بیان کئے کہ وہ لوگ جو ائمہ (ع) کے صحابہ تھے ان کومنتظر ین پر رشک آنے لگا انہوں نے ائمہ (ع) کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ مولا کیاہم بھی وہ زمانہ پالیں گے؟ جب حضرت حجت ـ ظہور فرمائیں گے اور ہم منتظرین کے طور پر ان کا استقبال کریں گے آیا یہ سعادت ہمیں نصیب ہوگی یا نہیں ہوگی ؟ امام حجت (ع) موجود ہیں ان کی موجودگی میں خود حجتِ خدا (ع)سے پوچھ رہے ہیں کہ جب یہ آخری حجت الٰہی (ع) تشریف لائیں گے تو آیا ہمیں یہ سعادت نصیب ہوگی یا نصیب نہیں ہوگی ؟ ہم منتظرین میں سے ہو سکتے ہیں یا منتظرین میں سے نہیں ہو سکتے؟ یہ سوال حضرت امام جعفر صادق (ع) اور حضرت امام باقر علیہ السلام سے کیا گیا تھا ۔ اب آپ عصر امام صادق (ع) دیکھیں اور عصر غیبت دیکھیں یعنی حضرت حجت (ع) کی پیدائش سے ایک سو پچاس سال پہلے ایک شخص آکر سوال کرتا ہے کہ آیا میں حضرت حجت(ع) کے منتظرین میں سے ہوں گا یا نہیں ؟ حضرت (ع) نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں ہی تمہاری وفات ہوگی لیکن تم اس کے باوجود منتظرین حضرت حجت (ع) میں سے ہو سکتے ہو۔زمانہ غیبت و عملی انتظاروہ انتظار جو امام(ع) بیان فرما رہے ہیں وہ یہ ہے کہ غیبت یعنی امام تک پہنچنے کی راہ میں حائل زمانی اور مکانی فاصلے کو عصرِ غیبت کہتے ہیں اور اگر زمانی فاصلے اور یہ مکانی دوریاں سمیٹ لی جائیں تواس کو انتظار کہتے ہیں ۔ زمانی اور مکانی فاصلوں کو سمیٹ کر حجت خدا کے حضور میں پہنچنے کو انتظار کہتے ہیں پس غیبت کا مداوا انتظار ہے ۔ غیبت زمانی اورمکانی دوری کا نام ہے ۔ انتظار اس زمانی و مکانی دوری کو قرب میں تبدیل کرنے کا نام ہے ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے یہ کام زمانہ غیبت میں ہو یا زمان ظہور میں۔فلسفہ انتظار اور فریضہ منتظرین امام صادق (ع) سے انتظار کے بارے میں اس وقت سوال کیا گیا جب حضرت حجت (ع) پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہم کیسے منتظرین میں شامل ہوں ؟وہی دستور جوامام صادق (ع) نے اس شخص کے سوال کے جواب میں بیان کیا ہے، وہ ہمارے لئے بھی ہے ۔ حدیث یہ ہے :' علی ابن ابراہیم عن ابیہ عن حماد ابن عیسیٰ عن حریز عن ز رارہ 'سارے راوی جلیل القدر ، پاک، صاف اور منزہ لوگ ہیں ، انہوں نے یہ حدیث نقل کی ہے ۔' قال ابو عبد اﷲ علیہ السّلام : اعرف امامک ، فانّک اذا عرفت لم یضرّک ، تقدّم ہذا الأمر أو تأخّر 'اپنی امام کو پہچانوجب تم اپنے امام کو پہچان لو گے اس وقت تمہارے لئے ظہور کے تقدم یا تأخر کا کوئی فرق نہیں ہو گاابوعبد اﷲ امام صادق ـ کی کنیت ہے کہ حضرت امام صادق ـ یوں ارشادفرماتے ہیں :' اعرف امامک … 'اپنے امام کو پہچانو …' فانّک اذا عرفت … 'اگر تو نے اپنے امام کو پہچان لیا …' لم یضرّک تقدّم ھٰذاالامر او تاخّر … 'پھر تیرے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ظہور پہلے ہو یا ظہور بعد میں ہو ۔ اگر تجھے اپنے امام (ع) کی معرفت ہے تو ظہور کی تاخیر ایسے ہی ہے جیسے ظہور تمہارے زمانے میں ہوا ہے۔دوسری حدیث میں بھی تقریباً مضمون اسی قسم کا ہے، اس میں یوں ہے کہ:' سألت ابا عبد اﷲ عن قول اﷲ تبارک وتعالیٰ 'یوم ندعو کلّ اناس بامامہم ' فقال : یا فضیل اعرف امامک ، فانّک اذا عرفت امامک لم یضرّک ، تقدّم ھذا الأمر أو تأخّر ، و من عرف امامہ ثمّ مات قبل أن یقوم صاحب ھذا الأمر ، کان بمنزلة من کان قاعداً فی عسکرہ ، لا بل بمنزلة من قعد تحت لوائہ ، قال : و قال بعض أصحابہ : بمنزلة استشہد مع رسول اللّہ ۖ 'فضیل ابن یسار کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے اللہ تبارک و تعالی کے اس قول کے بارے میں پوچھا کہ : ' قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ' تو امام ـ نے فرمایا : اے فضیل اپنے امام کو پہچانو جب تم اپنے امام کو پہچان لو گے تو پھر ظہور کی تعجیل اور تأخیر میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے صاحب الأمر کے ظہور سے قبل جو شخص بھی مرنے سے پہلے اپنے امام کو پہچان لے وہ امام کے لشکر میں بیٹھے ہوئے شخص کی طرح ہے ۔ نہ ، بلکہ وہ امام کے پرچم کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اور بعض راویوں نے یہ نقل کیا ہے کہ : ' امام (ع) فرمایا ' بلکہ اس وہ شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ ۖ کی معیت میں شہید ہوا ہے ۔اصحاب حضرت امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں جاکر عرض کرتے ہیں قرآن کی اس آیت کے بارے میں کہ جس میں خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس دن ہم ہر آدمی کوا پنے امام کے ساتھ اٹھائیں گے ، اس سے کیا مراد ہے؟ راوی کی خواہش کیا تھی ؟ حضرت امام صادق ـ کے زمانے کا راوی جس کو پتہ ہے کہ یہ امام ہیں، امام کی موجودگی میں امام پر عقیدہ و یقین ہے لیکن اس کے باوجود امام ـ سے پوچھ رہا ہے کہ اس آیت کے معنی کیا ہیں ؟ کہ ہم قیامت میں ہر آدمی کو اپنے امام کے ساتھ اٹھائیں گے ۔ امام (ع) یوں جواب دیتے ہیں:' فقال یا فضیل اعرف امامک … 'امام ـ نے فرمایا : اے فضیل اپنے امام کو پہچان ، فضیل سامنے بیٹھا ہوا ہے سوال کر رہا ہے اور امام صادق(ع) کہہ رہے ہیں کہ اپنے امام کو پہچان ،' فانّک اذا عرفت امامک لم یضرّک تقدّم ھٰذالامر او تاخّر … 'کہ پھر تیرے لئے مضر نہیں ہے یعنی تیرے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ظہور جلدی ہو یا دیر سے ہو ، تجھے اپنے امام کی پہچان ہونی چاہیے۔فضیل امام (ع) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کے صحابی تھے اور امام کی امامت پر اعتقاد تھا لیکن فضیل کا جی یہ چاہتا تھا کہ اس کا حضرت حجت (ع) کے ساتھ شمار ہو ،با وجود اس کے کہ امام صادق (ع) بھی امام تھے اور حجت خداہونے کے لحاظ سے ائمہ (ع) میں کوئی فرق نہیں ہے ، سب حجتِ خدا ہیں، سب برگزیدگانِ خدا ہیں ،سب معصوم ہیں اور سب اولیاء ﷲ ہیں، لیکن فضیل اس کے باوجود خواہش کرتے ہیں کہ حضرت حجت (ع) کے ساتھ محشو ر ہوں ، فضیل کے زمانے میں تو حضرت حجت (ع) ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ، ولادت بھی نہیں ہوئی تھی ، پھر کس نے فضیل کو اتنا راغب کر دیا ؟ خود امام صادق (ع) نے حضرت حجت ـ کے اتنے فضائل بتائے کہ فضیل بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے ک امام صادق (ع) جس شخصیت کو اتنا بڑھا کر بیان کر رہے ہیں تو پھر مجھے اس شخصیت کی معیت میں ہونا چاہئے ۔ امام (ع) یوں فرماتے ہیں کہ: ' ومن عرف امامہ ثمّ مات قبل عن یقوم صاحب ھٰذالامر … 'اگر تم نے اپنے امام(ع) کو پہچان لیا اور پھر تجھے موت آجائے ،اس سے پہلے کہ امام ظہور فرمائیں' کان بمنزلة من کان قاعداً فی عسکرہ 'جو شخص اپنے امام کی معرفت پیدا کر لے اور اس معرفت پر اس کو موت آجائے اگرچہ اس موت کے زمانے میں ظہور نہ بھی ہوا ہو تو یہ شخص ایسے ہی ہے جیسے سپاہِ امام زمان (ع) میں شامل ہے ۔اور امام (ع) فرماتے ہیں کہ سپاہ میں ہونا کوئی بڑی فضیلت نہیں ہے ، بلکہ امام ـ کی معرفت حاصل کر کے مرنا فضیلت ہے ۔' لا بل بمنزلة من قعد تحت لوائہ … 'بلکہ یہ شخص جو انتظار کے ایام میں حضرت(ع) کے ظہور سے پہلے مرگیا ہے لیکن اس کے دل میں معرفتِ امام ہے یہ اس شخص کی طرح ہے جو امام زمانہ (ع) کی سپاہ میں ہے نہ صرف سپاہ میں ہے ، بلکہ امام زمانہ (ع) کے پرچم کے نیچے ہے ۔چونکہ سپاہ جب منتشر اور پراگندہ ہو جاتی ہے توپرچم کے نیچے بہت خاص لوگ رہ جاتے ہیں ۔ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ امام (ع) کے پرچم کے نیچے ہوگا ۔' قال : و قال بعض اصحابہ : 'بعض اصحاب کا یہ کہنا ہے کہ امام ـ نے ایک اور